Home Blog Page 2

Maqalat-e-Hikmat Quotes

0

Maqalat-e-Hikmat Quotes

Introduction

Maqalat-e-Hikmat Quotes 31–60 bring together timeless wisdom and spiritual reflections that inspire peace, mindfulness, and inner growth. These inspirational sayings highlight the depth of Sufi thought and offer practical guidance for daily life.

مدبر کی تدبیر تقدیر کو نہیں ٹال سکتی۔ قادر مقتدر ہے جب چاہیے،

جیسا چاہے کرے۔ اگر تقدیر اٹل ہوتی، دعا کا حکم نہ ہوتا۔

الحمد للحي القيوم

جس طرح ہر کسان اپنی ہوئی ہوئی فصل میں سے فصل کے سوا

ہر دیگر خودرو گھاس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا کرتا ہے

اسی طرح ہر سالک ہر فضول کام اور کلام کو اپنی سلوک کی

منزل سے نکال باہر پھینکتا ہے اگر چہ فصل کے علاوہ اُگی ہوئی

رنگا رنگ کی بوٹیاں کھیت کی زینت دو بالا کیسے ہوتی ہیں لیکن

کسان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ ٹوٹیاں اُس کے کسی بھی کام کی نہیں فضول

کھیت کی طاقت کھا رہی ہیں۔ لہٰذا وہ ان سب کو اکھاڑ پھینکتا ہے

الحمد للحي القيوم

فرنگی کی فکر کا حاصل عجائب ایجادات۔

اور تیری فکر کا حاصل بحث، نفاق اور غم۔

الحمد للحي القيوم

 

فرنگی کی فکر کے فیض سے دنیا فیض یاب

!اور تیری فکر نے ملت کے شیرازے بکھیر دیے

الحمد للحي القيوم

فرنگی کو اپنے خیال پر یقین ہے

!اور تجھ کو اللہ پہ بھی نہیں

الحمد للحي القيوم

جو تو جانتا ہے اُسے مانتا نہیں جو کہتا ہے کرتا نہیں۔

ورنہ تو سردارہ ہوتا، تیرا حکم چلتا، جو کہتا وہی ہوتا۔

الحمد للحي القيوم

یہ میراث تیری تھی، اسے وہ لے گیا۔

کیا تجھے اس کا احساس نہیں؟

الحمد للحي القيوم

برسوں گزرنے پر بھی تو اپنی ناداری پہ کبھی نہ رویا

اور نہ ہی اس کھوئی ہوئی نعمت کو دوبارہ حاصل کرنے

!کی کوشش کی

الحمد للحي القيوم

اتحاد اسلام کی جان ہے۔

اتحاد کا حامی اسلام کا حامی

اور اسلام کا حامی صحیح مسلمان ہے۔

الحمد للحي القيوم

ہم عہدیدار ہیں۔اگر صرف مسلمان ہوتے (اتحاد کی اہمیت سے واقف ہوتے اور) متحد ہوتے

!اور اگر متحد ہوتے، تو کیا بتاؤں،کہ کیا ہوتے

الحمد للحي القيوم

اگر ہم اللہ کے حکم کے محکوم ہوتے

اللہ کے حکم سے ہمارا (مسلمانوں کا حکم) چلتا جو کہتے ہوتا۔
یا حی یا قیوم
ساری خدائی کے ناخدا ہوتے۔ اُمت کے خادم

اور کائنات کے ناظم ہوتے۔

الحمد للحي القيوم

بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللهِ لا حَولَ وَلا قوة الا بالله

اصلاح و نجات وفلاح کی کنجی ہے۔

الحمد للحي القيوم

اس کا کمال تقریر اور تیرا خاموشی ہے۔

الحمد للحي القيوم

تقریر میں آفات اور خاموشی میں حکمات پوشیدہ ہیں۔

الحمد للحي القيوم

خاموشی کی بارگاہ میں تقریر کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔

خاموشی غالب اور تقریر مغلوب ہوتی ہے۔

الحمد للحي القيوم

اللہ کے فقیر اللہ کی مخلوق کے خادم ہوتے ہیں۔

الحمد للحي القيوم

اللہ کے سوا کسی سے بھی کوئی امید نہیں رکھتے۔

الحمد للحي القيوم

اللہ کی کوئی مخلوق کسی مخلوق پر کسی بھی قسم کا

کوئی تصرف نہیں رکھتی مگر اللہ کے حکم سے۔ نہ کوئی

کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان مگہ اللہ کے حکم سے

جب تک حکم نہیں ملتا کسی کو بھی،اور کسی بھی امر

پہ کوئی قدرت نہیں ہوتی۔

الحمد للحي القيوم

دانائی بزرگی کا اہم ترین جزو ہے۔

الحمد للحي القيوم

ہر دانا بزرگ نہیں ہوتا مگر ہر بزرگ دانا ہوتا ہے۔

الحمد للحي القيوم

یہ (دونوں صفات دانائی و بزرگی) لازم و ملزوم ہیں۔

ہر قوم کی صلاح و فلاح انہی دو صفات پر مبنی ہے۔

الحمد للحي القيوم

اگر ان دو میں سے کوئی ایک صفت، دانائی ہو یا بزرگی

علیحدہ ہو جائے تو وہ قوم اپنی بلندی سے گر جاتی ہے ۔

الحمد للحي القيوم

ہر شے کمال ہی کو پہنچ کر فیض پہنچاتی ہے۔

حق ہو یا باطل۔

الحمد للحي القيوم

:غور سے سنیں

حضرت امیر المومنین عمر و علی حضرت اویس قرنی کی خدمت میں

جبہ رسول اکرم و اجمل صلی اللہ علیہ وسلم لے کر حاضر ہوئے لیکن وہ چند ثانیوں

سے زیادہ نہ مل سکے۔ یہ محویت کی حقیقت تھی۔

ياحي ياقيوم

اور ہم نے ساری کی ساری اور پوری کی پوری عمر فضولیات میں کھو دی۔
ہوش کن!
تیرے لیے یہ ضروری ہے کہ تو گھڑی کی طرح چلے، تیری چابی کبھی بند نہ ہو، اور تو کبھی نہ رکے اور نہ ہی تجھے کوئی روک سکے، اور تیرے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تو یہ نہ کرے اور یہ نہ کرے اور یہ نہ کرے۔
الحمد للحي القيوم

ف: یعنی حضرت اویس قرنی ذکر و فکر میں اس قدر محمود منہمک تھے کہ وہ حضرت عمر و علی نے جیسے جلیل القدر اصحاب کبار سے بھی نہ مل سکے۔ گویا کلیتا محوحق تھے۔

لوہے کو جب دیکہتی ہوئی آگ کی آغوش میں رکھا آگ بن گیا۔

وہی رنگ اور وہی خصلت۔ ذات کے سوا کوئی اور فرق باقی نہ رہا۔

لو ہا ساکت تھا، آگ متحرک حرکت، سکنت پر غالب آگئی۔

الحمد للحي القيوم

پانی اور ہوا کو سب ایک خاص اندازے کے ماتحت منظوم کیا گیا،

ایک تیسری چیز بجلی پیدا ہوئی۔ یہ بجلی پانی اور ہوا کے باہمی عمل ہی کا دوسرا نام ہے۔

کسی گڑھے میں ٹھیرا ہوا پانی بہت جلد سڑ جاتا ہے،

کسی کام کا نہیں رہتا اور بہتا ہوا پانی پاک ہے۔

اسے کوئی گندگی ناپاک نہیں کر سکتی۔

الحمد للحي القيوم

اہل ذکر کی مثال ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی مانند ہے

جس میں کسی کو بھی کودنے کی جرات نہیں ہوتی۔

یہاں تک کہ ملاح کو بھی نہیں ہوتی اور خشک نالوں میں گدھے لیٹا کرتے ہیں۔

الحمد للحي القيوم

جس بندے کا اللہ آسمان پر ذکر کرتا ہے، وہی بندہ دنیا میں اللہ کا ذکر کیا کرتا ہے۔

بندے کا ذکر کرنا اللہ کے ذکر کی بدولت ہوتا ہے جب آپ کسی کو ذکر میں مصروف

دیکھیں تو سمجھیں کہ اللہ اس کا ذکر فرما رہا ہے۔

اسی طرح جب تک اللہ بندے پر راضی نہیں ہوتا، بندہ اللہ پر راضی نہیں ہوتا۔
جس بندے کو ہر حال میں راضی دیکھو سمجھو کہ اللہ اس پر راضی ہے

اور اس کا ہر حال میں راضی رہنا، اس پہ

اللہ کے راضی ہونے کی بین دلیل ہے

الحمد للحي القيوم

جس قوم کی تہذیب کا معیار سرمائے پر بنی ہو، بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
یا حی یا قیوم
کسی قوم کو مہذب بنانے کے لیے سرمائے کی نہیں شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

الحمد للحي القيوم

 

Maqalat-e-Hikmat 31–60 Spiritual Wisdom Quotes Timeless Wisdom Sayings Sufi Inspirational Quotes

Maqalat-e-Hikmat 1-30 Abu Anees Muhammad Barkat Ali

0

Maqalat-e-Hikmat 1-30 Abu Anees Muhammad Barkat Ali

Introduction

The book Maqalat-e-Hikmat by Abu Anees Muhammad Barkat Ali (R.A.) is a timeless source of wisdom that continues to inspire people worldwide. The first 30 maqalat (sayings) highlight patience, knowledge, honesty, and spirituality, offering guidance for believers in every era. These teachings are not bound to one time or culture; instead, they carry universal values that strengthen faith and character. In this blog, we will explore Maqalat-e-Hikmat 1-30, their key lessons, and their relevance to modern life.

قران کی تعمیل میں ڈرنا کفر اور مرنا شہادت ہے

_ کافر سے بدتر اور شہید سے بہتر کوئی موت نہیں

بلبل گایا کرتی ہے، پروانہ جلا کرتا ہے۔

گانا کبھی ختم نہیں ہوتا اور جلنا ایک دم کی بازی

الحمد للحي القيوم

گندگی نے کوے کو نکھا کر دیا

ورنہ وہ بھی ایک پرندہ ہے اور بار بھی۔

موتی ہر پرندے کی خوراک نہیں

_سیمرغ ہی موتی کھاتا اور پچاتا ہے

شیطان سالک تھا۔

اگر مجذوب ہوتا کبھی مردود نہ ہوتا۔

سالک پر حکم اور مجذوب پہ محبت غالب ہوتی ہے

حکم محبت کی کبھی برابری نہیں کر سکتا۔

خیالات جب پاک ہو جاتے ہیں متحد ہو جاتے ہیں

جب متحد ہو جاتے ہیں بلند ہو جاتے ہے

اور خیالات کی بلندی انسانی معراج کا ابتدائی مقام ہے ۔

اہل ذکر اللہ کی راہ میں مرے، اگر چہ اپنے بستر پر مرے۔

انہیں ایک خصوصی زندگی عطا ہے جو عام مردوں کو حاصل نہیں۔

پس ہم انہیں عام مردوں میں کیوں کر شمار کر سکتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لا تَشْعُرُن

جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اُنہیں مردہ مت  کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم اسے نہیں سمجھتے۔

البقره :۱۵۴

مردوں کی قبروں پر بے شک گنبد بنانا منع ہے

اور نہ ہی آج تک کبھی کسی نے کسی مردے کی قبر پر گنبد بنایا۔

مقربين حق حقیقتاً زندہ ہیں اگر چہ صورۃ زندہ نہیں۔

جس کی قبر زندہ ہے ، بے شک زندہ ہے ۔

اسی طرح ان کے اعراس باعث برکت، باعث رحمت

اور باعث تقویت دین و ایمان ہیں۔

کبھی مردوں کو بھی کسی نے یاد کیا ہے؟ اگر وہ زندہ نہ ہوتے، ان کی یاد زندہ نہ رہتی۔

صدیاں گذرنے کے باوجود کسی بھی دل سے ان کی یاد فراموش نہ ہوئی۔

ہر دل ان کی یاد میں مسرور اور ان کی محبت میں مخمور ہے۔

پھر کیوں کر ہم انہیں عام مردوں میں شمار کر سکتے ہیں؟

وہ اسلام کے شیدائی تھے۔

اسلام کو جو نازہ ان پر ہے کسی پہ بھی نہیں ۔

اُن کی یاد قوموں کی زندگی اور ان کا کردار مشعل راہ ہے ۔

اُن کی حیات جاودانی ہے جب تک دنیا ر ہے گی، ان کا نام رہے گا۔

یہی زندگی کی مراد اور یہی زندگی کی اصل ہے۔

جس نے انہیں مردہ کہا متعصب ہے

اور کوئی متعصب حقیقت کو نہیں پاسکتا۔

تعصب حسد کی ایک شدید قسم ہے

اور حسد نیکیوں کو ایسے جلا دیتا ہے

جیسے کہ آگ لکڑی کو۔

خالق مخلوق کے ہر اس کلام کو جس پہ کہ متکلم نے عملی نمونہ دیا ہو

نگار خانہ دہر میں خلق کی زبان پر زندہ اور قائم رکھتا ہے ۔

ہر قیمتی چیز، ہر جگہ ، ہر نظر سے اوجھل رکھی جاتی ہے ۔

آنکھ دیکھ سکتی ہے، بول نہیں سکتی۔ زبان بول سکتی ہے دیکھ نہیں سکتی۔

دل جان سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے ، نہ بول۔

حسن جب تک معصوم رہتا ہے، برقرار رہتا ہے۔

نہ بے نور ہوتا ہے نہ بے قدر ۔

اللہ کو اپنے اس بندے پہ ناز ہوتا ہے اور صرف اُس بندے پر

جسے عطا و فضا میں کوئی تمیز نہ ہو، ہر حال میں جو بھی وارد ہو، راضی رہے،

کوئی اعتراض نہ کرے، اور یہ عمل ام العمل ہے

امن سے بہتر اور فساد سے بدتر اور کوئی چیز نہیں۔

سلوک کی راہ میں یقین سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔

ہر کمال کو زوال ہے ، مگر ادب۔

علم صفات تک اور عشق ذات تک پہنچاتا ہے ۔

موحد کے لیے اعلیٰ درجے کے تو کل اور متوکل

کے لیے اعلیٰ درجے کے ایمان کی ضرورت ہے۔

متوکل وہ ہے جس کو اللہ کی ربوبیت پر

ایسا تکیہ ہو جیسا کہ بچے کو ماں پہ ہوتا ہے۔

متوکلین کے لیے نہ وطن ہے نہ جائیداد ، نہ گھر نہ زر، صبح کی تو شام کا،

اور شام کی تو صبح کا نہ ذخیر ہو نہ فکر اور نہ ہی زندگی کی کوئی امید متوکلین

پرندوں کی طرح صبح بھوکے اُٹھتے اور شام کو سیر ہو کر واپس لوٹا کرتے ہیں۔

کرم لا محدود ہے۔ اگر کرم قدر کا مقدور ہوتا

محدود ہوتا اور اگر محدود ہوتا، ناقص ہوتا۔

Who was Abu Anees Muhammad Barkat Ali?

Abu Anees Muhammad Barkat Ali (R.A.) was a renowned Islamic scholar, spiritual guide, and Sufi saint of the 20th century. He dedicated his life to spreading the message of Islam through love, simplicity, and wisdom. His writings and sayings, especially Maqalat-e-Hikmat, remain a source of light for those seeking closeness to Allah.

What is Maqalat-e-Hikmat?

Maqalat-e-Hikmat literally means “Sayings of Wisdom.” It is a collection of short, powerful spiritual teachings given by Abu Anees Muhammad Barkat Ali (R.A.). Each maqala addresses an essential aspect of life—such as patience, gratitude, faith, truth, or humility—and guides how to live according to Islamic principles.

Key Themes of Maqalat-e-Hikmat 1-30

1. Patience & Gratitude

These maqalat remind us that patience (sabr) during hardships and gratitude (shukr) during blessings are the keys to true faith.

2. Knowledge & Wisdom

Knowledge without action is useless, and wisdom is the practical use of knowledge.

3. Faith & Trust in Allah

Trusting Allah (tawakkul) brings peace to the heart and removes unnecessary worries.

4. Truth & Honesty

Speaking the truth, even in difficulty, is one of the strongest signs of a believer.

5. Spiritual Discipline

Discipline in prayer, remembrance of Allah, and control of desires lead to spiritual strength.

Why These Sayings Are Still Relevant Today

Even though these maqalat were written decades ago, their wisdom remains timeless. In today’s world of stress and confusion, the teachings of Abu Anees Muhammad Barkat Ali (R.A.) provide guidance on how to balance spirituality with worldly life. They remind us to stay patient, remain truthful, and always keep faith in Allah.

Conclusion

Maqalat-e-Hikmat 1-30 by Abu Anees Muhammad Barkat Ali (R.A.) is a timeless guide for anyone seeking spiritual growth and inner peace. These sayings inspire us to live with patience, knowledge, and honesty, making them relevant for every generation. By reflecting on these words of wisdom, we can walk closer to the path of truth and gain success in both this world and the hereafter.

15 Powerful Imam Jafar Sadiq Quotes

0

15 Powerful Imam Jafar Sadiq Quotes That Will Inspire Your Life

 

Introduction

Imam Jafar Sadiq (R.A.), born in 702 AD (83 Hijri) in Madinah, was the 6th Imam of the Ahlul Bayt and great-grandson of Imam Ali (R.A.). He left a legacy of knowledge, patience, and faith. The timeless Imam Jafar Sadiq continues to inspire hearts toward truth and spirituality.

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

جو شخص ایک دن اور ایک رات میں چالیس بڑے گناہ کر بیٹھے ، لیکن پھر ندامت اور پشیمانی کے ساتھ اخلاص کے ساتھ یہ دعا پڑھ لے تو خداوند عالم اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے

اسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَلَا كُرَامِ وَ أَسْأَلُهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيَّ

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں

سب سے زیادہ رونے والے پانچ افراد ہیں:

ضرت آدم : جنت سے جدائی پر اتنا روئے کہ آنکھوں سے دو نہریں جاری ہو گئیں،

حضرت یعقوب : یوسف کی جدائی میں اتنا روئے کہ نابینا ہو گئے،

حضرت یوسف”: قید خانے میں والد کی یاد میں اتنا

روئے کہ قیدی پریشان ہو گئے،

حضرت فاطمہ زہر ا: رسول اللہ صلی علیہ السلام کے بعد اتنا

روئیں کہ مدینے والوں کا کار و بار رک گیا،

امام زین العابدین: اپنے باب امام حسین کے غم میں برسوں روتے رہے ؟؟

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

رسولِ خدا نے ارشاد فرمایا

غیبت کر نازنا سے بھی بڑا گناہ ہے ” صحابہ نے پوچھا: یارسول اللہ ! یہ کیسے ؟

آپ نے فرمایا: زنا کرنے والا اگر توبہ کرے تو اللہ تعالٰی اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے، لیکن غیبت کرنے والے کا گناہ اُس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک وہ شخص، جس کی غیبت کی گئی ہے، اسے معاف نہ کر دے؛

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

اگر کسی مومن کی

نماز جنازہ میں چالیس آدمی شریک ہو کر اس کے

نیکو کار اور اعمال اچھے ہونے کی گواہی دیں تو

اللہ تعالی ان گواہیوں کے سبب اسے بخش دیتا

ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

میں نے تمہاری گواہیوں کی وجہ سے اسے معاف کر دیا اور اس کے وہ گناہ بھی معاف کر دیے جن کا علم میرے پاس ہے، کیونکہ میں اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ تمہاری گواہیوں کو بنیاد بناتا ہوں؟

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

 جب انسان ۳۳ سال کا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی طاقت و توانائی کی پوری حد تک پہنچ جاتا ہے، ۴۰ سال میں اس کی قوت اپنی انتہا کو پہنچتی ہے، لیکن جب وہ ۴۱ سال کا ہوتا ہے تو اس کی طاقت اور توانائی میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے، اور جب کوئی ۵۰ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے چاہیے کہ خود کو موت کے قریب تصور کرے اور ہمیشہ آخرت کی تیاری میں رہے؟

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں؛

جو شخص کسی جاندار کا مجسمہ بناتا ہے،

قیامت کے دن اسے عذاب ہو گا،

اس سے کہا جائے گا کہ اس میں روحڈال، اور جب تک وہ روح ڈالنے کی کوشش کرتارہے گا عذاب میں مبتلا ر ہے۔ گا، حالانکہ وہ کبھی بھی اس میں روحنہیں ڈال سکتا ؟

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں؛

اگر کوئی شخص نماز میں بار بار بھولنے لگے تو اسے چاہیے کہ جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے

” بسم الله و باللہ اعوذ بالله من الرجس النحبس

الخبيث المخبث الشيطان الرجيم “

ترجمہ : اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ ہی کے

بھروسے پر ، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں گندگی، ناپاکی، خبیث اور دوسروں کو خبیث بنانے یہ دعا پڑھنے سے انسان نماز میں بار بار بھولنے سے بچ جاتا ہے، کیونکہ شیطان انسان کے دل کو بھٹکاتا ہے اور یادداشت میں خلل ڈالتا ہے

حضرت امام جعفر صادق ارشاد فرماتے ہیں؛

حضرت امام علی نے فرمایا؛

جس گھر میں قرآن کی تلاوت اور خدا کا ذکر کیا جائے وہاں برکت بڑھتی ہے، فرشتے موجود رہتے ہیں اور شیطان بھاگ جاتے ہیں، ایسا گھر آسمان والوں کو ویسے ہی روشن نظر آتا ہے جیسے زمین والوں کو ستارے چمکتے ہیں، چمکتے اور جس گھر میں قرآن نہ پڑھا جائے، وہاں سے برکت کم ہو جاتی ہے، فرشتے چلے جاتے ہیں اور شیطان داخل ہو جاتے ہیں؟

حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں

جب بچہ دس برس کا ہو جائے تو اسے عورتوں کے پاس نہ لٹاؤ دس برس کی عمر میں بچہ شعور و سمجھ بوجھ کی عمر میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ ماحول اور حرکات کو سمجھنے لگتا ہے، اس لیے اسلام نے تعلیم دی ہے کہ اسے غیر ضروری طور پر عورتوں کے پاس نہ سُلایا جائے تاکہ اس کی طبیعت میں شرم و حیا اور پاکیزگی برقرار رہے

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

وہ لوگ جو انسانوں میں شمار نہیں ہوتے اور جانوروں سے بھی بدتر ہیں؟

 جو مسواک نہیں کرتے

جو تنگ جگہوں پر دوزانوں بیٹھتے ہیں

 جو فضول اور بے کار باتوں میں مداخلت کرتے ہیں

جو بغیر سمجھے کسی معاملے میں رائے دیتے ہیں

 جو بنا بیماری کے بیمار بنتے ہیں

 جو بنا مصیبت کے پریشان ہوتے ہیں

جو اپنے دوستوں کی اچھی رائے کی مخالفت کرتے ہیں۔

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

جب کوئی اپنی بیوی کو بیاہ کر گھر لائے تو اسے قبلہ رخ بٹھا کر اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھے

اور یہ دعا کرے

اے اللہ ! یہ تیری امانت ہے، اور میں نے تیرے کلمات کی برکت سے اس کے ساتھ شادی کی ہے، اگر تو ہمیں اولاد دے تو اسے نیک، تندرست اور اچھی شکل و صورت والا بنا، اور شیطان کو اس میں شریک نہ ہونے دینا؟

امام جعفر صادق فرماتے ہیں؛

پانچ طرح کے لوگ ایسے ہیں جن پر شیطان کا کوئی زور نہیں چلتا :

* خدا پر بھروسہ کرنے والا : جو مخلص دل۔ ں دل سے اللہ کی پناہ مانگے اور ہر معاملے میں اسی پر اعتماد کرے،

ذکر الٰہی کرنے والا: جو شب وروز اللہ کی تسبیح اور یاد میں مشغول رہے،

* مصیبت میں صابر : جو مشکلات اور آزمائشوں میں بے صبری یا شکوہ نہ کرے بلکہ صبر و برداشت سے کام لے،

* قانع بنده: جو قناعت کرے اور جو کچھ خدا نے عطا کیا ہے ، اس پر راضی رہے،

ایثار کرنے والا : جو اپنی روزی کا غم نہ کرے، اور جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے مومن بھائی کے لیے بھی پسند کرے،

ایک شخص نے امام جعفر صادق سے عرض کیا

میں نے ایک عورت سے شادی کی، پھر لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس پر کچھ (عیب یا برائی) کہی، امام نے فرمایا: تم نے پوچھا ہی کیوں ؟ تم پر یہ تفتیش لازم نہیں ہے، یعنی نکاح میں حد سے زیادہ چھان بین یا دوسروں کی باتوں پر دھیان دینا ضروری نہیں، اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان نکاح کرے تو زیادہ بد گمانی اور کھوج کرید نہ کرے)

امام جعفر صادق فرماتے ہیں

پانچ لوگ نماز قصر نہیں پڑھیں گے ؟

* جانور کرایہ پر دینے والا : جو جانور بھی دیتا ہے اور ساتھ خود بھی سفر کرتا ہے،

چرواہا : جو جانور چکر آتا ہے اور اکثر سفر میں رہتا ہے،

کشتی بان : جو دریا میں کشتی رانی کر کے روزی کماتا ہے

* قاصد: جو خطوط اور پیغامات ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتا ہے،

* ملاح: جو کشتی یا جہاز چلاتا ہے اور اس کا سارا کام ہی سفر پر منحصر ہوتا ہے؛

امام جعفر صادق فرماتے ہیں،

بنی اسرائیل کے وہ لوگ جو ہفتہ کے دن شکار کرتے

تھے ، وقتی طور پر بندر بن گئے ، وہ لوگ

جن پر حضرت عیسی اسکی بد دعا ہوئی،

کچھ عرصے کے لیے سور کی شکل میں

مسخ ہوئے، ایک جادو گرنی عورت جو

وقتی طور پر چمگادڑ کی شکل میں مسخ ہوئی؟

Powerful Imam Jafar Quotes That Will Inspire Your Life Timeless  Jafar Sadiq Quotes for Wisdom and Success Inspiring Imam Jafar Sadiq Quotes You Must Read Imam  Your Thinking

Life Lessons from Imam Jafar Sadiq Quotes

From these powerful quotes, we learn valuable lessons:

* Knowledge is a spiritual light.
* Patience is the foundation of peace.
* Truthfulness is greater than wealth.
* Good friends and manners shape our character.
* Charity and generosity bring true blessings.

These lessons apply to everyday life and help us grow spiritually and morally.

Frequently Asked Questions (FAQs)

Q1: Why should we read Imam Jafar Sadiq’s quotes?
They guide us toward truth, patience, and spiritual growth.

Q2: Are Imam Jafar Sadiq’s quotes relevant today?
Yes, his sayings contain wisdom that is timeless and universal.

Q3: Are these quotes only for Muslims?
No, Imam Jafar Sadiq’s words hold value for people of all backgrounds.

Conclusion

The Imam Jafar Sadiq Quotes are timeless treasures of wisdom. His words inspire honesty, patience, knowledge, and love for Allah. By practicing his teachings, we can achieve success in this world and peace in the Hereafter. Truly, his sayings remain a guiding light for humanity.